Please wait...
HomeForumInternationalUrduرشوت
Topic Rating:

Jump to
ySense Customer Care CornerySense Knowledge CenterMembers LoungeYour StatsSuccess StoriesPayment ProofsMember IntroductionGeneral TalkForo en EspañolCharla GeneralSoporte General y PagosInternationalPortugueseItalianFrenchGermanHindiUrduFilipinoIndonesianArabicRomanianTurkishRussianBulgarianHungarianPolishEx-Yugoslavia
رشوت

Locked

#1 by Murtaza49 » Tue Dec 11, 2012 08:14

زندگی کی واحد رشوت جو میں نے خوشی سے لی۔ پاکستان کے ایک ڈپٹی کمشنر کا حیرت انگیز اعتراف

ایک روز ایک بےحد مفلوک الحال بڑھیا آئی۔ رو رو کر بولی کہ میری چند بیگھہ زمین ہے جسے پٹواری نے اپنے کاغذات میں اس کے نام منتقل کرنا ھے لیکن وہ رشوت لئے بغیر یہ کام کرنے سے انکاری ھے ۔ رشوت دینے کی توفیق نہیں۔ تین چار برس سے وہ طرح طرح کے دفتروں میں دھکے کھا رہی ہے لیکن کہیں سنوائی نہیں ہوئی۔

اس کی درد ناک بپتا
سُن کر میں نے اسے اپنی کار میں بٹھایا اور جھنگ شہر سے ساٹھ ستر میل دور اس کے گاؤن کے پٹواری کو جا پکڑا۔ ڈپٹی کمشنر کو اپنے گاؤں میں یوں اچانک دیکھ کر بہت سے لوگ جمع ہو گئے۔ پٹواری نے سب کے سامنے قسم کھائی کہ یہ بڑھیا بڑی شرانگیز عورت ہے اور زمین کے انتقال ک بارے میں جھوٹی شکائیتں کرنے کی عادی ہے۔ اپنی قسم کی عملی طور پر تصدیق کرنے کے لئے پٹواری اندر سے ایک جزدان اٹھا کر لایا اور اسے اپنے سر پر رکھ کر کہنے لگا، "حضور دیکھئے میں اس مقدس کتاب کو سر پر رکھ کر قسم کھاتا ہوں"۔ گاؤن کے ایک نوجوان نے مسکرا کر کہا۔ "جناب ذرا یہ بستہ کھول کر دیکھ لیں"۔

ہم نے بستہ کھولا، تو اس میں قرآن شریف کی جلد نہیں بلکہ پٹوار خانے کے رجسٹر بندھے ہوئے تھے۔میرے حک

م پر پٹواری بھاگ کر ایک اور رجسٹر لایا اور سر جھکا کر بڑھیا کی انتقال اراضی کا کام مکمل کر دیا۔

میں نے بڑھیا سے کہا۔"بی بی، لو تمہارا کام ہو گیا۔ اب خوش رہو"۔

بڑھیا کو میری بات کا یقین نہ آیا۔ اپنی تشفی کے لئے اس نے نمبر دار سے پوچھا "
کیا سچ مچ میرا کام ہو گیا ہے؟"

نمبر دار نے اس بات کی تصدیق کی تو بڑھیا کی آنکھوں سے بے اختیار خوشی کے آنسو بہنے لگے۔ اس کے دوپٹے کے ایک کونے میں کچھ ریزگاری بندھی ہوئی تھی۔ اس نے اسے کھول کر سولہ آنے گن کر اپنی مٹھی میں لئے اور اپنی دانست میں دوسروں کی نظر بچا کر چپکے سے میری جیب میں ڈال دیئے۔ اس ادائے معصومانہ اور محبوبانہ پر مجھے بھی بے اختیار رونا آ گیا۔ یہ دیکھ کر گاؤں کے کئی دوسرے بڑے بوڑھے بھی آبدیدہ ہو گئے۔

یہ سولہ آنے واحد "رشوت" ہے جو میں نے اپنی ساری ملازمت کے دوران قبول کی۔ اگر مجھے سونے کا ایک پورا پہاڑ بھی مل جاتا، تو میری نظر میں ان سولہ آنوں کے سامنے اس کی کوئی قدر و قیمت نہ ہوتی۔ میں نے ان آنوں کو ابھی تک خرچ نہیں کیا۔ کیونکہ میرا گمان ہے کہ یہ ایک ایسا متبرک تحفہ ہے جس نے مجھے ہمیشہ کے لئے مالا مال کر دیا۔

سولہ آنے - شہاب نامہ سے اقتباس از قدرت اللہ شہاب

what u say
Murtaza49
Posts1
Member Since9 Feb 2012
Last Visit30 Dec 2012
Likes Given0
Likes Received1/1

#2 by SilentTruth » Tue Dec 11, 2012 08:23

Masha Allah Allah Hum Sub Ko Bhi Aesa Banaey
SilentTruth
Posts201
Member Since8 Aug 2012
Last Visit3 Dec 2013
Likes Given9
Likes Received9/8

#3 by MDanial » Tue Dec 11, 2012 08:24

Murtaza49
Bht nice brother :thumbup:
MDanial
Posts487
Member Since24 Jun 2012
Last Visit8 Mar 2015
Likes Given54
Likes Received97/70
Return to 'Urdu' Forum     Return to the forums index
All times displayed are PST - Server Time: Jan 19, 2022 17:46:51 PST